Friday, 24 December 2021

نیند آنکھوں میں ہے کم کم مجھے آواز نہ دو

 نیند آنکھوں میں ہے کم کم مجھے آواز نہ دو

جاگ جائے گا کوئی غم، مجھے آواز نہ دو

یوں بھی رفتارِ دلِ زار ہے مدھم مدھم

اور ہو جائے گی مدھم، مجھے آواز نہ دو

نیم خاموش ہے سازِ رگِ جاں کا ہر تار

تار ہو جائیں گے برہم، مجھے آواز نہ دو

بعد مدت کے ذرا دل کو قرار آیا ہے

جانے کیا دل کا ہو عالم مجھے آواز نہ دو


جاوید کمال رامپوری

No comments:

Post a Comment