چاند کے گِرد جو یہ ہالہ ہے
میری الفت کا اک حوالہ ہے
مجھ کو رکھتا ہے ہر گھڑی بے کل
زیرِ پائے طلب جو چھالا ہے
مجھ کو بھی نیند اب نہیں آتی
مجھ کو بھی عشق ہونے والا ہے
اب کے کوئی خوشی نہیں دیکھی
غم نے ڈیرہ جو گھر میں ڈالا ہے
جن کو خوفِ خدا ذرا بھی نہیں
ایسے لوگوں سے اپنا پالا ہے
جو زمانے کو درس دیتے تھے
ان کے ہونٹوں پہ آج تالا ہے
چاند تنہا سفر نہیں کرتا
ساتھ، تاروں کی ایک مالا ہے
وہ کہیں بے وفا نہ ہو جائے
دال میں ایسے کالا کالا ہے
شہرِ پٹنہ تو اپنا ہے انجم
شہرِ دہلی بھی دیکھا بالا ہے
فریدہ انجم
No comments:
Post a Comment