ٹھوکریں کھایا ہوا پتھر خُدا ہونا ہی تھا
میرے گِر جانے سے اس کا قد بڑا ہونا ہی تھا
اس شجر کے سُوکھ جانے کا سبب تنہائی تھی
اک پرندہ آ کے بیٹھا تو ہرّا ہونا ہی تھا
دام کچھ اپنے زیادہ لگ رہے تھے ان دنوں
پھر ہمیں بازار میں سب سے جُدا ہونا ہی تھا
ٹھوکریں کھایا ہوا پتھر خُدا ہونا ہی تھا
میرے گِر جانے سے اس کا قد بڑا ہونا ہی تھا
اس شجر کے سُوکھ جانے کا سبب تنہائی تھی
اک پرندہ آ کے بیٹھا تو ہرّا ہونا ہی تھا
دام کچھ اپنے زیادہ لگ رہے تھے ان دنوں
پھر ہمیں بازار میں سب سے جُدا ہونا ہی تھا
میرے اندر کا شور کم کر دے
آیتیں پڑھ کے مجھ پہ دم کر دے
لوگ مجھ کو خریدنے سے رہے
آ کسی روز دام کم کر دے
میرے ماتھے پہ اپنے ہونٹوں سے
اک نئی زندگی رقم کر دے
جب کوئی زخم مِرے دل پہ نیا لگتا ہے
تب مجھے حوصلہ جینے کا ہرا لگتا ہے
عشق کے دن تھے کہ نفرت بھی بھلی لگتی تھی
اب کوئی پیار سے دیکھے تو بُرا لگتا ہے
جانے کیوں اب میں کتابیں بھی اگر پڑھتا ہوں
ان میں بھی تیرے ہی ہاتھوں کا لکھا لگتا ہے
سوگ ہم اپنی تباہی کا منانے لگ جائیں
اتنے ٹوٹے بھی نہیں ہیں کہ ٹھکانے لگ جائیں
اس لیے خود کو تِرے در سے جڑا رکھا ہے
کم سے کم عشق کہ آداب تو آنے لگ جائیں
ہم سے کچھ لوگ جو زندہ نہ رکھیں روشنیاں
روشنی والے چراغ اپنے بُجھانے لگ جائیں