Showing posts with label ارشاد انجم. Show all posts
Showing posts with label ارشاد انجم. Show all posts

Thursday, 16 July 2026

ٹھوکریں کھایا ہوا پتھر خدا ہونا ہی تھا

 ٹھوکریں کھایا ہوا پتھر خُدا ہونا ہی تھا

میرے گِر جانے سے اس کا قد بڑا ہونا ہی تھا

اس شجر کے سُوکھ جانے کا سبب تنہائی تھی

اک پرندہ آ کے بیٹھا تو ہرّا ہونا ہی تھا

دام کچھ اپنے زیادہ لگ رہے تھے ان دنوں

پھر ہمیں بازار میں سب سے جُدا ہونا ہی تھا

Sunday, 30 November 2025

میرے اندر کا شور کم کر دے

 میرے اندر کا شور کم کر دے

آیتیں پڑھ کے مجھ پہ دم کر دے

لوگ مجھ کو خریدنے سے رہے

آ کسی روز دام کم کر دے

میرے ماتھے پہ اپنے ہونٹوں سے

اک نئی زندگی رقم کر دے

Saturday, 8 June 2024

جب کوئی زخم مرے دل پہ نیا لگتا ہے

 جب کوئی زخم مِرے دل پہ نیا لگتا ہے

تب مجھے حوصلہ جینے کا ہرا لگتا ہے

عشق کے دن تھے کہ نفرت بھی بھلی لگتی تھی

اب کوئی پیار سے دیکھے تو بُرا لگتا ہے

جانے کیوں اب میں کتابیں بھی اگر پڑھتا ہوں

ان میں بھی تیرے ہی ہاتھوں کا لکھا لگتا ہے

Wednesday, 21 April 2021

سوگ ہم اپنی تباہی کا منانے لگ جائیں

سوگ ہم اپنی تباہی کا منانے لگ جائیں

اتنے ٹوٹے بھی نہیں ہیں کہ ٹھکانے لگ جائیں

اس لیے خود کو تِرے در سے جڑا رکھا ہے

کم سے کم عشق کہ آداب تو آنے لگ جائیں

ہم سے کچھ لوگ جو زندہ نہ رکھیں روشنیاں

روشنی والے چراغ اپنے بُجھانے لگ جائیں