محفل سوز و گدازِ غم کو گرمائے گا کون؟
اہلِ دل کو اپنے دردِ دل سے تڑپائے گا کون
موجزن ہے کس کے دل میں آتشِیں سیالِ غم
مستئ خونِ جگر آنکھوں سے برسائے گا کون
کس پہ طاری ہے جنونِ عشق کی وارفتگی؟
یوں زباں پر والہانہ رازِ دل لائے گا کون
محفل سوز و گدازِ غم کو گرمائے گا کون؟
اہلِ دل کو اپنے دردِ دل سے تڑپائے گا کون
موجزن ہے کس کے دل میں آتشِیں سیالِ غم
مستئ خونِ جگر آنکھوں سے برسائے گا کون
کس پہ طاری ہے جنونِ عشق کی وارفتگی؟
یوں زباں پر والہانہ رازِ دل لائے گا کون
آج اپنی شامِ تنہائی کا ہے منظر جدا
جوشِ دردِ دل جدا ہے جوشِ چشمِ تر جدا
آ گیا ہے دامنِ قاتل جو اپنے ہاتھ میں
سب کا اک محشر جدا ہے اپنا اک محشر جدا
کر دیا یہ کیا فسُوں ساقی کی چشمِ مست نے
اب جو ہوتا ہی نہیں لب سے مِرے ساغر جدا
کچھ لطف خموشی میں نہ آہوں میں مزا ہے
بے کیفیٔ دل ان دنوں کچھ حد سے سوا ہے
ہے لطف خموشی میں نہ آہوں میں مزا ہے
بے کیفئ دل ان دنوں حد سے سوا ہے
بے خود کئے رہتی ہے تصور کی فضا میں
اپنی شبِ تنہائی کا عالم ہی جدا ہے
یہ میرے اشعار یہ ضرباتِ قلبِ بے قرار
ہیں میرے وجدانِ حسن و عشق کے آئینہ دار
شاعری ہے میری تنہائی کا اک شغل لطیف
اپنے بزمِ دل کا خود ساقی ہوں خود ہوں مے گسار
جب ہوا کچھ کیف دل میں کہہ لیے دوچار شعر
پھر بقدرِ ذوق اس کو پڑھ لیا دو چار بار
عیشِ بزمِ دوست، عیشِ جاوداں سمجھا تھا میں
یہ بھی اک خوابِ سحر ہے، یہ کہاں سمجھا تھا میں
مجھ کو اپنی بے خودی کا، وہ بھی عالم یاد ہے
جب کسی کو اپنے دل میں، مہماں سمجھا تھا میں
لذتِ درد نہاں بھی، بارِ خاطر تھی مجھے
کچھ اسے بھی اک، حجابِ درمیاں سمجھا تھا میں