عیشِ بزمِ دوست، عیشِ جاوداں سمجھا تھا میں
یہ بھی اک خوابِ سحر ہے، یہ کہاں سمجھا تھا میں
مجھ کو اپنی بے خودی کا، وہ بھی عالم یاد ہے
جب کسی کو اپنے دل میں، مہماں سمجھا تھا میں
لذتِ درد نہاں بھی، بارِ خاطر تھی مجھے
کچھ اسے بھی اک، حجابِ درمیاں سمجھا تھا میں
یادِ عہدِ آرزو بھی، رفتہ رفتہ مٹ گئی
اور اسی کو، حاصلِ عمرِ رواں سمجھا تھا میں
کیا غلط تھا، اے دلِ نا عاقبت اندیش اگر
ان سے امیدِ وفا کو، رائیگاں سمجھا تھا میں
منزلِ ذوقِ طلب میں، جادۂ ہستی سے دور
تم وہیں آخر ملے مجھ کو، جہاں سمجھا تھا میں
رفتہ رفتہ ہو گئی برہم، زن صبر و قرار
یاد اُن کی، باعث تسکیں جاں سمجھا تھا میں
اللہ اللہ تھی انہیں کے، پائے نازک پر جبیں
بےخودی میں سجدہ گہ کو، آستاں سمجھا تھا میں
دل کی باتیں ان سے کہہ دیں، اس طرح دیوانہ وار
جیسے ان کو اپنے دل کا، راز داں سمجھا تھا میں
عارفی کیا مجھ پہ ہوتا، رنج و راحت کا اثر
زندگی کو دھوپ چھاؤں کا، سماں سمجھا تھا میں
عبدالحئی عارفی
No comments:
Post a Comment