Showing posts with label احمد حاطب صدیقی. Show all posts
Showing posts with label احمد حاطب صدیقی. Show all posts

Friday, 21 October 2022

حرم کے سجدہ گزارو اٹھو پناہ مانگو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پناہ مانگو


حرم کے سجدہ گزارو

اپنی خفیف پیشانیاں زمینِ حرم پہ رکھ دو

تڑپ کے روتے ہوئے دلوں کو

حجاز کے ہر قدم پہ رکھ دو

دعا کرو، گڑگڑاؤ، بِلکو

Thursday, 20 October 2022

اٹھا نہ شورش وہم و قیاس آنکھوں سے

 اٹھا نہ شورشِ وہم و قیاس آنکھوں سے

جو سچ ہے سُن مِری زخمی اداس آنکھوں سے

وہ ایک موتی جو دل میں چُھپا کے رکھا تھا

پھسل گیا وہ مِری بد حواس آنکھوں سے

نہ اب وہ حُسنِ نظر، نے کشش نظارے میں

اُتر گیا جو حیا کا لباس آنکھوں سے

Wednesday, 19 October 2022

یہ اضطراب کا عالم کہاں سے آتا ہے

 یہ اضطراب کا عالم کہاں سے آتا ہے

خوشی ہے جاتی کہاں، غم کہاں سے آتا ہے

سوال کرتی ہیں رو رو کہ مجھ سے یہ آنکھیں

کہ دل میں گریہ پیہم کہاں سے آتا ہے

گر اپنے خوں سے شگوفے کھلاتی ہیں شاخیں

تو زرد پتوں کا موسم کہاں سے آتا ہے

Monday, 1 August 2022

رہگزاروں پہ نہ جانا لوگو رہگزاروں پہ لہو تاباں ہے

رہگزاروں پہ نہ جانا لوگو

رہگزاروں پہ لہو تاباں ہے

جاں نثاروں کا لہو

جاں نثاروں کا لہو پوچھے گا

ہم نے جو شمع فروزاں کی تھی

اس پہ کیوں آج دھواں رقصاں ہے

Saturday, 23 July 2022

دن تو سب ہی گزر جاتے ہیں یادیں باقی رہ جاتی ہیں

دن تو سب ہی گزر جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں

جان سے پیارے مر جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں

ان کا ملنا، ان سے بچھڑنا، یاروں کے اغیار کے طعنے

زخم تو سارے بھر جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں

ماضی کی ہر بزم سے ہم نے، مستقبل کے خواب سمیٹے

لیکن خواب بکھر جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں

Tuesday, 12 July 2022

مری غزل میں اب نہ وہ غزال ہو تو معذرت

مِری غزل میں اب نہ وہ غزال ہو، تو معذرت

شبیہ و عکس، نے کوئی مثال ہو، تو معذرت

کلامِ شوخ کا سبب تو اک نگاہِ شوخ تھی

دمِ سخن اب آنکھ میں ملال ہو، تو معذرت

وہی جمالِ ہم نشیں، رہا ہمیشہ دل نشیں

بس، اور کوئی صاحبِ جمال ہو، تو معذرت