عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پناہ مانگو
حرم کے سجدہ گزارو
اپنی خفیف پیشانیاں زمینِ حرم پہ رکھ دو
تڑپ کے روتے ہوئے دلوں کو
حجاز کے ہر قدم پہ رکھ دو
دعا کرو، گڑگڑاؤ، بِلکو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پناہ مانگو
حرم کے سجدہ گزارو
اپنی خفیف پیشانیاں زمینِ حرم پہ رکھ دو
تڑپ کے روتے ہوئے دلوں کو
حجاز کے ہر قدم پہ رکھ دو
دعا کرو، گڑگڑاؤ، بِلکو
اٹھا نہ شورشِ وہم و قیاس آنکھوں سے
جو سچ ہے سُن مِری زخمی اداس آنکھوں سے
وہ ایک موتی جو دل میں چُھپا کے رکھا تھا
پھسل گیا وہ مِری بد حواس آنکھوں سے
نہ اب وہ حُسنِ نظر، نے کشش نظارے میں
اُتر گیا جو حیا کا لباس آنکھوں سے
یہ اضطراب کا عالم کہاں سے آتا ہے
خوشی ہے جاتی کہاں، غم کہاں سے آتا ہے
سوال کرتی ہیں رو رو کہ مجھ سے یہ آنکھیں
کہ دل میں گریہ پیہم کہاں سے آتا ہے
گر اپنے خوں سے شگوفے کھلاتی ہیں شاخیں
تو زرد پتوں کا موسم کہاں سے آتا ہے
رہگزاروں پہ نہ جانا لوگو
رہگزاروں پہ لہو تاباں ہے
جاں نثاروں کا لہو
جاں نثاروں کا لہو پوچھے گا
ہم نے جو شمع فروزاں کی تھی
اس پہ کیوں آج دھواں رقصاں ہے
دن تو سب ہی گزر جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں
جان سے پیارے مر جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں
ان کا ملنا، ان سے بچھڑنا، یاروں کے اغیار کے طعنے
زخم تو سارے بھر جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں
ماضی کی ہر بزم سے ہم نے، مستقبل کے خواب سمیٹے
لیکن خواب بکھر جاتے ہیں، یادیں باقی رہ جاتی ہیں
مِری غزل میں اب نہ وہ غزال ہو، تو معذرت
شبیہ و عکس، نے کوئی مثال ہو، تو معذرت
کلامِ شوخ کا سبب تو اک نگاہِ شوخ تھی
دمِ سخن اب آنکھ میں ملال ہو، تو معذرت
وہی جمالِ ہم نشیں، رہا ہمیشہ دل نشیں
بس، اور کوئی صاحبِ جمال ہو، تو معذرت