آپ تو اب آئے ہیں ان مرحلوں کے درمیاں
ہم نے صدیاں کاٹ دی ہیں زلزلوں کے درمیاں
فکرِ دُنیا، فکرِ عُقبیٰ، فکرِ ہستی، فکرِ موت
ایک انساں؛ اور اتنے مسئلوں کے درمیاں
دائرے تک ہی ذرا پرواز کو محدود رکھ
موت بھی ملتی ہے اکثر بادلوں کے درمیاں
کس طرح سمجھے کوئی آنکھوں سے دل کی گفتگو
قُربتیں جب تک نہ ہوں کچھ فاصلوں کے درمیاں
روز گوہر اپنی تاریخِ جنُوں پڑھتے رہو
سرد مہری آ نہ جائے حوصلوں کے درمیاں
گوہر عثمانی
No comments:
Post a Comment