Wednesday, 29 July 2026

آپ تو اب آئے ہیں ان مرحلوں کے درمیاں

 آپ تو اب آئے ہیں ان مرحلوں کے درمیاں

ہم نے صدیاں کاٹ دی ہیں زلزلوں کے درمیاں

فکرِ دُنیا، فکرِ عُقبیٰ، فکرِ ہستی، فکرِ موت

ایک انساں؛ اور اتنے مسئلوں کے درمیاں

دائرے تک ہی ذرا پرواز کو محدود رکھ

موت بھی ملتی ہے اکثر بادلوں کے درمیاں

کس طرح سمجھے کوئی آنکھوں سے دل کی گفتگو

قُربتیں جب تک نہ ہوں کچھ فاصلوں کے درمیاں

روز گوہر اپنی تاریخِ جنُوں پڑھتے رہو

سرد مہری آ نہ جائے حوصلوں کے درمیاں


گوہر عثمانی

No comments:

Post a Comment