ذرا سی بات پر مجھ سے خفا ہونے لگا ہے
جو پیکر تھا وفا کا، بے وفا ہونے لگا ہے
خزاں میں پتی پتی مجھ کو ہوتا دیکھ کر وہ
ہوا کا ہاتھ تھامے، اب جدا ہونے لگا ہے
غم دنیا کی جھلسانے لگی ہے دھوپ ہم کو
خیال یار ہی اب تو ردا ہونے لگا ہے
ہے وقت نزع پیارے! اب تو آ کر ہم سے مل لو
کہ ساز دل ہمارا بے صدا ہونے لگا ہے
سحاب اس سے کہو، رستہ ہے یہ بربادیوں کا
جنون عشق سے جو آشنا ہونے لگا ہے
اسلم سحاب ہاشمی
No comments:
Post a Comment