Friday, 10 July 2026

تاجدار حرم ہو نگاہ کرم ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تاجدارِ حرم ہو نگاہ کرم ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے

ہادئ بیکساں کیا کہے گا جہاں آپؐ کے در سے خالی اگر جائیں گے

خوفِ طوفاں کہیں بجلیوں کا ہے غم سخت مشکل ہے آقاؐ کہاں جائیں ہم

آپؐ بھی گر نہ لیں گے ہماری خبر ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے

در پہ ساقیٔ کوثرﷺ کے پینے چلو،۔۔ مے کشو آؤ آؤ مدینے چلو

یاد رکھو اگر اُٹھ گئی وہ نظر جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے

کوئی اپنا نہیں غم کے مارے ہیں ہم آپؐ کے در پہ فریاد لائیں ہیں ہم

ہو نگاہِ کرم ورنہ چوکھٹ پہ ہم آپؐ کا نام لے لے کے مر جائیں گے

آپؐ کے در سے کوئی نہ خالی گیا اپنے دامن کو بھر کے سوالی گیا

ہو پیام حزیں پر بھی آقاﷺ کرم ورنہ اوراق ہستی بکھر جائیں گے


پیام سیہالوی

محمد شفیق

No comments:

Post a Comment