اسے کہنا
بہار آنے سے پہلے
پرندے جب سفر سے لوٹ آئیں گے
تو ان کے نقرئی بے داغ چمکیلے پروں پر
ہواؤں نے تمہارا نام کندہ کر دیا ہو گا
جمیل احسن
اسے کہنا
بہار آنے سے پہلے
پرندے جب سفر سے لوٹ آئیں گے
تو ان کے نقرئی بے داغ چمکیلے پروں پر
ہواؤں نے تمہارا نام کندہ کر دیا ہو گا
جمیل احسن
کسے معلوم ہے اک دن
مجھے پھر ایک ان دیکھے جزیرے کی طرف چپ چاپ جانا ہے
جہاں صندل کے قد آور درختوں تلے
کچھ لوگ میرے منتظر ہوں گے
انہیں تشویش ہو گی مجھ سے پوچھیں گے
کہ ہجرت کیا ہے؟
اے وطن
اے وطن
میرے وطن پیارے وطن
میں نے کب چھوڑا تھا تجھ کو
میں تجھے بھولا ہی کب تھا
دور تھا تجھ سے
مگر اس دل میں ہر دن موجزن تھی تیری یاد
عجیب سا میں
عجیب دنیا
رواج کے ساتھ چل رہا ہوں
نہ منطبق مجھ میں یہ زمانہ
نہ میں زمانے کو ہمنوا ہوں
جمیل احسن