خُود کو تیرے نام لگا کر رقص کیا
عشق میں اپنا آپ لُٹا کر رقص کیا
دل کو رکھا پیار کے بہتے پانی میں
آنکھ میں تیرا عکس چھُپا کر رقص کیا
عزرائیل کو ہنستے ہنستے بدا کیا
میں نے موت کو نیند سُلا کر رقص کیا
تیری یاد سے تن مہکا کر رقص کیا
مجنُوں بن کر یار منانے کی خاطر
پیار کی خاطر جان لگا کر رقص کیا
دل کا رنگ نچوڑا بہتے پانی میں
اور صحرا کو گِیت سُنا کر رقص کیا
رقص کی مستی خُود پر کاشف طاری کی
ہم نے رقص کو دِین بنا کر رقص کیا
کاشف اورا
No comments:
Post a Comment