Wednesday, 12 August 2026

ہوا کے دوش پہ کس کے پیام آتے ہیں

 ہوا کے دوش پہ کس کے پیام آتے ہیں

ہمارے گھر کے در و بام مہک جاتے ہیں

میں سُوکھی ڈال ہوں لیکن تمہاری یادوں کے

پرندے آ کے سرِ شام بیٹھ جاتے ہیں

ہماری آنکھوں میں یوں انتظار روشن ہے

ندی میں جیسے کئی دِیپ جِھلملاتے ہیں

چلی ہیں دورِ ترقی کی آندھیاں کیا کیا

شرافتوں کے در و بام ٹُوٹ جاتے ہیــں

دُھندلکا شام کا چھانے لگا ہے سوچتی ہوں

کہ اس سمے تو پرندے بھی لوٹ آتے ہیـں

یہ زندگی وہ کڑی دُھوپ ہے نسیم یہاں

نہ جانے کتنے ہرے پیڑ سُوکھ جاتے ہیں


ملکہ نسیم

No comments:

Post a Comment