Wednesday, 19 August 2026

بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں

 نیلا آسمان


میری بچی نے مجھ سے کل پُوچھا

بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں؟

میں نے سوچا پر اس سے کہہ نہ سکا

یہ سوال اس کے دل میں آیا کیوں؟

کیوں یہ باتیں ہیں اتنی دلآویز

ہے یہ انداز اتنا پیارا کیوں؟

کیوں ہیں لب پر یہ اتنے سارے سوال

ہے تبسم یہ پھُول جیسا کیوں؟

میرے دل میں ادھیڑ بُن کیا ہے

میں ستاروں سے جا کے اُلجھا کیوں؟

ستم انگیز زندگی دلکش

پھر یہ انجام کار مرنا کیوں

میں نے یہ کیا جواب سوچا ہے

تم نے ایسا سوال پُوچھا کیوں؟


حبیب تنویر

No comments:

Post a Comment