Friday, 14 August 2026

کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرے

 کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرے

خدا کسی کو نہ اب آشنائے راز کرے

کہاں تک آدمی حِیل خِرد سے ساز کرے

فضائے دہر کو اللہ جنوں نواز کرے

نہ پُوچھ مرتبہ اس کے مقامِ عالی کا

جسے وہ فِکر دو عالم سے بے نیاز کرے

حقیقتوں کی تجلّی بھی پائے گا اس میں

جو رُوبرُو کوئی آئینۂ مجاز کرے

نہیں ہے پُختہ ابھی ذوقِ بندگی اس کا

حدٗودِ دَیر و حرم میں جو اِمتیاز کرے

ہر ایک سانس میں سُنتا ہے نغمۂ لاہُوت

وہ جس کو گوش بر آواز نے نواز کرے


وحشی کانپوری

No comments:

Post a Comment