ناصح کو بُڑھاپے میں ہے ارمان ابھی تک
کہتے ہیں وہ بیوی کو مِری جان! ابھی تک
کھولے ہوئے بیٹھے ہیں وہ دوکان ابھی تک
پھیکا ہے مگر شیخ کا پکوان ابھی تک
سر ہلتا ہے تھوتن میں کوئی دانت نہیں ہیں
بن پایا نہ ٹُوٹا ہوا دالان ابھی تک
چپل سے مُرمت ہوئے گُزرا ہے زمانہ
ہنستا ہے مجھے دیکھ کے دربان ابھی تک
انسان نے آرام کی ہر چیز بنا لی
جو بن نہ سکا ایک بھی انسان ابھی تک
کل اس کو تکبُّر تھا جُھکاؤں گا نہیں سر
انساں ہے مگر پیروئے شیطان ابھی تک
مغرب کے لُٹیرے تو گئے دیش سے اپنے
ہر گھر میں گِرانی تو ہے مہمان ابھی تک
مُلا ہوں کہ پنڈت ہوں وہ شاعر ہو کہ نیتا
مشکوک ہے ہر ایک کا ایمان ابھی تک
بیوی نے طمانچوں سے جو منہ لال کیا تھا
ناوک! کو میاں یاد ہے وہ پان ابھی تک
ناوک لکھنوی
اشیاق حسین ظریفی
No comments:
Post a Comment