گُفتگو کُھل کر نہیں کرتے کبھی یاروں کے بِیچ
مسئلے وہ حل کریں گے چار دیواروں کے بیچ
شہر کی اُونچی فصیلوں میں مِرے گھر کا وجود
ایک ننھا سا دِیا ہو جیسے کُہساروں کے بیچ
گُم ہوئی کتنی صدائیں، جل بُجھے ہونٹوں کے بول
کتنی آوازوں نے دم توڑا ہے نقّاروں کے بیچ
ساری دُنیا جل رہی ہے، اک ہوس کی آگ میں
ہم کسے آواز دیں اب جا کے انگاروں کے بیچ
رفتہ رفتہ نُور سارے ساتھیوں نے راہ لی
ہم اکیلے ہی کھڑے تھے کل سزاواروں کے بیچ
نور منیری
قاضی عمر ابراہیم
No comments:
Post a Comment