Monday, 24 August 2026

آیا ہے کون کیوں یہ ہوا مشکبار ہے

آیا ہے کون کیوں یہ ہوا مُشکبار ہے

موسم کا بھی مزاج بہت خوشگوار ہے

شبنم نے فرطِ شوق میں موتی لُٹائے ہیں

لبریز گُل کے ہاتھ میں جامِ بہار ہے

میٹھا سا ایک گیت ہے موجوں کے شور میں

دریا کے پار کس کو مِرا انتظار ہے

سرگوشیوں میں عہدِ وفا کر رہے ہو کیوں

لو کہہ دیا نا! میں نے مجھے اعتبار ہے

گھر میرا کھو گیا ہے مگر یاد ہے مجھے

آنگن میں اس کے اک شجرِ سایہ دار ہے

تاجوں پہ جس نے کوئی قصیدہ نہیں لکھا

تختِ سُخن پہ آج وہی تاجدار ہے

تازہ غزل کہی ہے زمیں میں انیس کی

لہجے میں میرے آج غضب کا نکھار ہے

مونا یقین کی نہیں ایماں کی بات ہے

آلِؑ رسولﷺ پہ تو مِری جاں نثار ہے


مونا شہاب

No comments:

Post a Comment