Wednesday, 19 August 2026

سنو یہ جو ہجر کی کٹار ہے

 کٹارِ عشق


سنو یہ جو ہجر کی کٹار ہے

بڑی تیز اس کی دھار ہے

یہ کلیجہ کاٹے جا رہی ہے

زیست کو دور لیے جا رہی ہے

ان نینوں میں اب ہر وقت برسات ہے

چاروں طرف اماوس کی سیاه رات ہے

سہج کر بهی رکھوں ہر ایک قدم

پهر بھی جدائی کی ہی بات ہے

ہر سایہ لرزا بر اندام ہے

ہر طرف ایک ہی پکار ہے

یہ تو ہجر کی کٹار ہے


مونا شہزاد

No comments:

Post a Comment