ہر قدم پر اک نیا خطرہ ہے میرے شہر میں
ہوں مگر مجبور جینے کو اندھیرے شہر میں
کھیتیاں سُوکھی پڑی تھیں چار سُو دیہات میں
جم کے برسے اس طرف بادل گھنیرے شہر میں
سب مکیں سہمے ہوئے، خاموش ہیں دیوار و در
گُھومتے ہیں ہر طرف قاتل، لُٹیرے شہر میں
ہاں اسی مٹی سے وابستہ مِری پہچان ہے
تُو سمجھتا ہے کہ میں ہوں غیر تیرے شہر میں
خوف سے کر پائے گا کوئی نہ قاتل کی شناخت
خواہ کتنے ہی لگا لیں آپ پھیرے شہر میں
حُکمراں ہے گرچہ تاریکی ابھی لیکن نسیم
کل کا سُورج آئے گا کرنیں بکھیرے شہر میں
نسیم مظفرپوری
نسیم اختر
No comments:
Post a Comment