Friday, 28 August 2026

دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

 دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا

مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح

میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا

آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس

آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا

ہے کلب کے رنگ و رامش میں بھی میرے ساتھ ساتھ

ایک سناٹا جو دل کی خانہ ویرانی میں تھا

تھا وہ میرے خیر مقدم کو بظاہر پیش پیش

عکس دیگر لیکن اس کی خندہ پیشانی میں تھا

مقتل شام و سحر میں کیا پنپتی زندگی

شبنمستاں ہونکتے شعلوں کی نگرانی میں تھا

موسم گل بھی جنوں پرور تھا لیکن بیشتر

مصلحت کا ہاتھ میری چاک دامانی میں تھا

صابر اس منظر کی مووی لے رہا تھا ایک شخص

شاخ پر اک آشیاں شعلوں کی تابانی میں تھا


نوبہار صابر

No comments:

Post a Comment