Thursday, 27 August 2026

کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں

 نہ ہو ان کا جب سایہ دعائیں کام آتی ہیں

کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں

سکوتِ شب میں یادوں کی صدائیں کام آتی ہیں

مجھے تیرے دوپٹے کی ہوائیں کام آتی ہیں

یہ بیٹے زندگی میں آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں

مگر یہ بیٹیاں تو دائیں بائیں کام آتی ہیں

محبت کی علامت ہیں، انہیں زخمی نہیں کرنا

قیامِ امن میں یہ فاختائیں کام آتی ہیں

گناہوں کی نہیں پابند، بندہ پروری اس کی

وہ ہو جب رحم پہ مائل، خطائیں کام آتی ہیں

چمکتے ہیں شکستہ دل میں تیری یاد کے جگنو

شبِ غربت میں بوسیدہ قبائیں کام آتی ہیں

غریب انسان مر جائے تو اس کے اہلِ خانہ کو

جو بچ جاتی ہیں گھر میں، سب دوائیں کام آتی ہیں

اگر سانسیں اکھڑ جائیں تو اکثر ہم نے دیکھا ہے

مریضِ غم کو مصنوعی ہوائیں کام آتی ہیں


نور امروہوی

No comments:

Post a Comment