Monday, 10 August 2026

فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے

 فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے

تیرے کہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے

کچھ قرض اپنی ذات کے ہو بھی گئے وصول

جیسے تِرے سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے

اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا مِلا

اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے

اس کے بدن کا موڑ بڑا خوشگوار ہے

ہم بھی سفر میں عمر سے ٹھہرے نہیں ہوئے

اک روز کھیل کھیل میں ہم اس کے ہو گئے

اور پھر تمام عمر کسی کے نہیں ہوئے

ہم آ کے تیری بزم میں بے شک ہوئے ذلیل

جتنے گناہ گار تھے اتنے نہیں ہوئے

اس بار جنگ اس سے رعونت کی تھی سو ہم

اپنی انا کے ہو گئے، اس کے نہیں ہوئے


وپل کمار

No comments:

Post a Comment