Thursday, 27 August 2026

شب کے کالے گنبد میں اک نوری در تخلیق ہو

 شب کے کالے گُنبد میں اک نُوری در تخلیق ہو

قُدرت کے ہاتھوں سے کیا عُمدہ منظر تخلیق ہوا

پہلے آہن زاد چھُری سے نازک گردن کٹتی تھی

پھر دل پر برسانے کو لفظی خنجر تخلیق ہوا

قطرہ قطرہ جُثہ پگھلا ہاتھوں پر چھالے چمکے

ایک گھروندا رہنے قابل تب جا کر تخلیق ہوا

کچھ کے رستے کانٹوں کے دالان سے ہو کر جاتے ہیں

کچھ کے پاؤں رکھنے کو سنگِ مر مر تخلیق ہوا

بے ترتیبی کے پردے میں ایک مُرتب دُنیا ہے

یُوں لگتا ہے سارا عالم نقشے پر تخلیق ہوا

کارِ تخلیقیت میں مصروف خُدا کے ہاتھوں سے

جو کچھ بھی تخلیق ہوا ہے بے حد سُندر تخلیق ہوا


نواز کمال

No comments:

Post a Comment