مجھے ہر دن ستاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
ہمیشہ دل دُکھاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
خدا کو یاد کر غافل، وہی تو رب ہمارا ہے
اسے تم بھُول جاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
امیر شہر! ہمدردی ہے مزدوروں سے کب تم کو
انہیں بھُوکا سُلاتے ہو، یہ تم اچھا نہیں کرتے
غلط حرکت پہ بیگم کی کبھی ڈانٹا نہیں تم نے
مگر ماں کو رُلاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
پلاتے ہو کہاں بادہ مجھے تم اپنی انکھوں سے
رقیبوں کو پلاتے ہو، یہ تم اچھا نہیں کرتے
مجھے اہل سیاست! اس لیے تم سے شکایت ہے
کہ جنتا کو لڑاتے ہو، یہ تم اچھا نہیں کرتے
خدا ہے بخشنے والا، کرو گے تم اگر توبہ
جہنم سے ڈراتے ہو، یہ تم اچھا نہیں کرتے
شبنم بھٹکلی
حنیف شاہ
No comments:
Post a Comment