نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا
بنا کے راہگزر بھیڑ سے گزر جانا
مجھے ڈبو نہ سکیں گی یہ تند خُو موجیں
مِری سرشت میں ہے ڈُوب کر اُبھر جانا
بِچھا نہ راہ میں اپنی انا کی چنگاری
مجھے تو آتا ہے شعلوں سے بھی گزر جانا
پرند ان دنوں بے بال و پر بھی اُڑتے ہیں
تجھے تو آتا ہے بس بال و پر کتر جانا
حسین جھُوٹ ہی سب سے بڑی سیاست ہے
جو بات کہنا، اسی بات سے مُکر جانا
گلا دباتا رہا روز خواہشوں کا میں
نئی ضرورتوں کو موت کا بھنور جانا
اسی وسیلے سے زندہ ہوں شہر میں اب تک
کُھلی فضا کو ردا، سیڑھیوں کا گھر جانا
نور پیکر
No comments:
Post a Comment