Thursday, 27 August 2026

نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا

 نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا

بنا کے راہگزر بھیڑ سے گزر جانا

مجھے ڈبو نہ سکیں گی یہ تند خُو موجیں

مِری سرشت میں ہے ڈُوب کر اُبھر جانا

بِچھا نہ راہ میں اپنی انا کی چنگاری

مجھے تو آتا ہے شعلوں سے بھی گزر جانا

پرند ان دنوں بے بال و پر بھی اُڑتے ہیں

تجھے تو آتا ہے بس بال و پر کتر جانا

حسین جھُوٹ ہی سب سے بڑی سیاست ہے

جو بات کہنا، اسی بات سے مُکر جانا

گلا دباتا رہا روز خواہشوں کا میں

نئی ضرورتوں کو موت کا بھنور جانا

اسی وسیلے سے زندہ ہوں شہر میں اب تک

کُھلی فضا کو ردا، سیڑھیوں کا گھر جانا


نور پیکر

No comments:

Post a Comment