Friday, 14 August 2026

تختۂ مشق بنوں جاں بہ سپر ہو جاؤں

 تختۂ مشق بنوں، جاں بہ سِپر ہو جاؤں

تو بتا؟ کون سا چہرہ لوں، کِدھر ہو جاؤں

بے زبانوں کی رفاقت بھی میسّر کر لی

بولیے! آپ کا منظورِ نظر ہو جاؤں؟

یونہی بے سمت سفر کتنا رہا ہے باقی

اُس طرف جاؤں مری جاں، یا اِدھر ہو جاؤں

راہ تکتے ہوئے آنکھیں تو ادھُوری ٹہری

کہیے سرکار! کہ اب راہگزر ہو جاؤں؟

میری آواز سے ہمت کو جِلا مِلتی ہے

بیکسی ٹُوٹ پڑے، میں کہ جِدھر ہو جاؤں

خیر ٹھہری ہے زمانے کے موافق ہونا

ہونے کو جی نہیں چاہے ہے مگر ہو جاؤں

بے گھری اوب گئی، اب تو یہ عالم ہے کہ بس

کون سی راہ چُنوں، جانے کِدھر ہو جاؤں؟

جو بغاوت پہ وعیدوں سے نکھر جاتا ہے

فرحتِ تلخ نوا، تیشہ نظر ہو جاؤں؟


وسیم فرحت کارنجوی علیگ

No comments:

Post a Comment