Thursday, 13 August 2026

جہان ابد وحشت دل فقط ایک لمحہ ٹھہر

  جہانِ ابد


وحشتِ دل! فقط ایک لمحہ ٹھہر

میں ٹٹولوں ذرا دل کی زنبیل کو

اس میں رکھے تھے میں نے گئے دن کہیں

قُرب کے، سرخُوشی، شادمانی کے دن

وہ جوانی کے دن

کچھ تمنّائیں، کچھ حسرتیں، خواب بھی

اس کی تصویریں، جن میں تھیں نایاب بھی

کتنی یادیں تھیں ہم نے سنبھالی کہیں

اس کے ہاتھوں کے لِکھے ہوئے خط بھی تھے

اور ورق، وہ جو بھیجے تھے خالی، کہیں

وحشتِ دل! ذرا ایک لمحہ ٹھہر

چشمِ نم سے ہٹے پردۂ اشک تو

پھر تسلّی سے وہ خال و خد دیکھ لوں

ایک پَل میں ازل اور ابد دیکھ لوں


راشد عباسی

No comments:

Post a Comment