تمہارے ہاتھ سے چھوٹے تو اتنے عام ہوئے
ہمارے ہاتھ، موتیوں کے پھر نہ دام ہوئے
ذرا یہاں بھی فراخ دستی ہونی چاہیے تھی
ہماری باری پہ صاحب وہ سبک گام ہوئے
ازل سے داغ لگا ہے ہمارے بخت جلا
بازئ عشق بھی ہارے اور بدنام ہوئے
بچے شہر میں خوش ہیں، مگر بوڑھوں کے
آنکھ کے سامنے یادوں کے گھر نیلام ہوئے
شجاع وہ آ کے، الوداع ہوئے بغیر رکے
ہماری آنکھ میں وحشت کے پھر قیام ہوئے
کاشف شجاع
No comments:
Post a Comment