عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اُسی سے حق کا ظہور آپؐ کے زمانے میں
حِرا میں اُترا جو نُور آپؐ کے زمانے میں
اُسی پہ قافلۂ ارتقاء روانہ ہوا
کھلی جو راہِ شعور آپؐ کے زمانے میں
کسی کے آگے کسی کی جبیں نہ جھکتی تھی
غریب بھی تھے غیور آپؐ کے زمانے میں
کبھی ہوا؟ کہ شہِ وقتﷺ خاک پر سوئے
ہوا ہے یوں بھی حضور آپؐ کے زمانے میں
مجھے رُلاتی ہے کوتاہئ نصیب مِری
میں کیوں ہوا نہ حضورؐ آپؐ کے زمانے میں
وقارِ عجز بھی ایسا کہ سر بخاک ہوا
بڑے بڑوں کا غرور آپؐ کے زمانے میں
ذرا خیال کیا اور پہنچ گیا کوثر
زمانے کر کے عبور آپؐ کے زمانے میں
اقبال کوثر
No comments:
Post a Comment