Saturday, 15 August 2026

دید کے قابل کہاں ہے رنگ میخانہ ابھی

 دید کے قابل کہاں ہے رنگ میخانہ ابھی

خوں نظر آتا ہے پیمانہ پہ پیمانہ ابھی

کون سمجھائے اسے رازِ شکستِ رنگ و بو

اک طلسمِ رنگ و بو میں گم ہے دیوانہ ابھی

مسکرا کر تم نے دیکھا پھول سے کھلنے لگے

عزتِ گلشن ہے اب جو دل تھا ویرانہ ابھی

تم جو ٹھکرا دو تو پھر شاید نہ اس قابل رہے

ہے پذیرائی کے قابل دل کا نذرانہ ابھی

چاہتی ہے اعتبارِ ذات کا سودا نسیم

زندگی نے غالباً مجھ کو پہچانا ابھی


نسیم نیازی اکبرآبادی

No comments:

Post a Comment