دید کے قابل کہاں ہے رنگ میخانہ ابھی
خوں نظر آتا ہے پیمانہ پہ پیمانہ ابھی
کون سمجھائے اسے رازِ شکستِ رنگ و بو
اک طلسمِ رنگ و بو میں گم ہے دیوانہ ابھی
مسکرا کر تم نے دیکھا پھول سے کھلنے لگے
عزتِ گلشن ہے اب جو دل تھا ویرانہ ابھی
تم جو ٹھکرا دو تو پھر شاید نہ اس قابل رہے
ہے پذیرائی کے قابل دل کا نذرانہ ابھی
چاہتی ہے اعتبارِ ذات کا سودا نسیم
زندگی نے غالباً مجھ کو پہچانا ابھی
نسیم نیازی اکبرآبادی
No comments:
Post a Comment