آب پر وار کرنے لگ گیا تھا
ہِجر دِیوار کرنے لگ گیا تھا
کس طرح قتل کرتا میں اس کو
وه مجھے پیار کرنے لگ گیا تھا
دُشمنی میں بھی کوئی کرتا نہیں
جو مِرا یار کرنے لگ گیا تھا
گلے پڑنا تھی میری مجبوری
وه مجھے ہار کرنے لگ گیا تھا
میرا بنتا تھا چھوڑنا اس کو
جِینا دُشوار کرنے لگ گیا تھا
جُرم یہ ہے میں دورِ کچھوا میں
تیز رفتار کرنے لگ گیا تھا
وقار حیات
No comments:
Post a Comment