Saturday, 8 August 2026

صورت اتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی

 صُورت اُتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی

کہہ دو کہ بات جھُوٹ ہے ان کے شباب کی

شامِ وِصال سیج پہ شرمائے جُوں دُلہن

شرمائی یوں ہیں شاخ پہ کلیاں گُلاب کی

پتھر اُچھال دیجیے یوں دل کی جھیل میں

ورنہ امید رکھیے نہ مجھ سے جواب کی

منزل قریب آئی تو بھٹکا دیا گیا

ان رہبروں نے زندگی میری خراب کی

حالات نے بِگاڑ دی واحد کی شکل یوں

جیسے خراب جِلد ہو اچھی کتاب کی


چندر واحد

No comments:

Post a Comment