Showing posts with label کلدیپ گوہر. Show all posts
Showing posts with label کلدیپ گوہر. Show all posts

Monday, 3 August 2026

اگر شوق جنوں ہو آزمانا

 اگر شوقِ جنوں ہو آزمانا

دِیوں کو تیز آندھی میں جلانا

ہماری ایک عادت بن گئی ہے

غم و یاس و الم میں مُسکرانا

کُچل کر گردشِ شام و سحر کو

بہت تیزی سے چلنا ہے زمانہ

Saturday, 31 May 2025

اک دوسرے کا درد سمجھتا کوئی نہیں

 اک دوسرے کا درد سمجھتا کوئی نہیں

حیرت یہ ہے کہ خود سے شناسا کوئی نہیں

میں کب سے چیختا ہوں؛ بُرائی کو چھوڑو

افسوس، میری بات کو سُنتا کوئی نہیں

دیکھیں اگر بغور تو اپنے ہیں سب یہاں

سوچیں اگر بغور تو اپنا کوئی نہیں

Friday, 3 January 2025

محفل عشق کا دستور نرالا دیکھا

 محفل عشق کا دستور نرالا دیکھا

غم سے معمور ہر اک چاہنے والا دیکھا

محل امید کا برسوں میں ہوا تھا تعمیر

اس کو پل بھر میں ہی ہم نے تہ و بالا دیکھا

دشمنوں نے میری جانب سے زباں کھولی تھی

اپنے احباب کے ہونٹوں ہی پہ تالا دیکھا

Wednesday, 25 December 2024

ختم ہونے کو ہے اب احساس کا گونگا سفر

 ختم ہونے کو ہے اب احساس کا گونگا سفر

ہیں نگاہوں میں صدا دیتے ہوئے دیوار و در

ان نہ خوف راہزن ہے کچھ نہ شوقِ راہبر

بڑھ رہے ہیں ہم رہِ منزل پہ بے خوف و خطر

بھر گیا ساری عبارت میں جو رنگِ دلکشی

لشکرِ الفاظ میں وہ ایک حرفِ معتبر

Thursday, 19 December 2024

رہائی بھی کر لیں گے اب اپنے بس میں

 رہائی بھی کر لیں گے اب اپنے بس میں

نہیں کچھ تردد بھی قید قفس میں

یقیں ہے وہ دن اب قریب آ رہا ہے

زمانہ جب ہو گا مِری دسترس میں

اسی میں ہے انسانیت کی بھلائی

نبھائیں خوشی سے محبت کی رسمیں