اگر شوقِ جنوں ہو آزمانا
دِیوں کو تیز آندھی میں جلانا
ہماری ایک عادت بن گئی ہے
غم و یاس و الم میں مُسکرانا
کُچل کر گردشِ شام و سحر کو
بہت تیزی سے چلنا ہے زمانہ
اگر شوقِ جنوں ہو آزمانا
دِیوں کو تیز آندھی میں جلانا
ہماری ایک عادت بن گئی ہے
غم و یاس و الم میں مُسکرانا
کُچل کر گردشِ شام و سحر کو
بہت تیزی سے چلنا ہے زمانہ
اک دوسرے کا درد سمجھتا کوئی نہیں
حیرت یہ ہے کہ خود سے شناسا کوئی نہیں
میں کب سے چیختا ہوں؛ بُرائی کو چھوڑو
افسوس، میری بات کو سُنتا کوئی نہیں
دیکھیں اگر بغور تو اپنے ہیں سب یہاں
سوچیں اگر بغور تو اپنا کوئی نہیں
محفل عشق کا دستور نرالا دیکھا
غم سے معمور ہر اک چاہنے والا دیکھا
محل امید کا برسوں میں ہوا تھا تعمیر
اس کو پل بھر میں ہی ہم نے تہ و بالا دیکھا
دشمنوں نے میری جانب سے زباں کھولی تھی
اپنے احباب کے ہونٹوں ہی پہ تالا دیکھا
ختم ہونے کو ہے اب احساس کا گونگا سفر
ہیں نگاہوں میں صدا دیتے ہوئے دیوار و در
ان نہ خوف راہزن ہے کچھ نہ شوقِ راہبر
بڑھ رہے ہیں ہم رہِ منزل پہ بے خوف و خطر
بھر گیا ساری عبارت میں جو رنگِ دلکشی
لشکرِ الفاظ میں وہ ایک حرفِ معتبر
رہائی بھی کر لیں گے اب اپنے بس میں
نہیں کچھ تردد بھی قید قفس میں
یقیں ہے وہ دن اب قریب آ رہا ہے
زمانہ جب ہو گا مِری دسترس میں
اسی میں ہے انسانیت کی بھلائی
نبھائیں خوشی سے محبت کی رسمیں