Showing posts with label احمد طارق. Show all posts
Showing posts with label احمد طارق. Show all posts

Monday, 2 January 2023

وقت کا کیا ہے مرے یار بدل جاتا ہے

 وقت کا کیا ہے مرے یار، بدل جاتا ہے

آگ لگتی ہے تو بازار بدل جاتا ہے

ہم درختوں کے تو پھل بھی نہیں بدلے اب تک

ان پرندوں کا تو گھر بار بدل جاتا ہے

خواب ہر بار صدائیں دئیے رہ جاتے ہیں

اک ارادہ ہے کہ ہر بار بدل جاتا ہے

Friday, 15 April 2022

لبوں پہ قہقہے لیکِن گماں میں روتا ہے

 لبوں پہ قہقہے، لیکِن گماں میں روتا ہے

نہ جانے مسخرہ کیسی زباں میں روتا ہے

خدا سے جا کے کہو مشکلات دور کرے

کہیں پہ کوئی مؤذن اذاں میں روتا ہے

جناب! آپ تو ایسے چلا رہے ہیں تِیر

کہ جیسے تِیر حصارِ کماں میں روتا ہے

Friday, 24 September 2021

حسن در حسن وہی ذات نظر آتی ہے

 حسن در حسن وہی ذات نظر آتی ہے

ایک تتلی مجھے دن رات نظر آتی ہے

چارہ سازو! مِرے اعصاب کی تدبیر کرو 

مجھ کو خوابوں میں ملاقات نظر آتی ہے

خودغرض شخص ذرا اپنے گریبان میں جھانک

لوگ کہتے ہیں کہ اوقات نظر آتی ہے

Sunday, 19 September 2021

ڈر کے بیٹھا ہوں سر نگوں وحشت

 ڈر کے بیٹھا ہوں سر نگوں، وحشت

مجھ کو بتلا میں کیا کروں، وحشت

ہجر کافی ہے دل لگی کے لیے

اب میں تیرا بھی کیا بنوں وحشت؟

چاہے جتنا سنوار لوں خود کو

آئینے میں مگر لگوں وحشت

Saturday, 4 September 2021

درکار تھا قرار بلانا پڑا اسے

 درکار تھا قرار بلانا پڑا اسے

آواز دی تو لوٹ کے آنا پڑا اسے

میں کون ہوں کہاں سے ہوں اور کس کا پیار ہوں

بُھولا ہوا تھا، مجھ کو بتانا پڑا اسے

جاتے ہوئے سبھی سے ملایا تھا اس نے ہاتھ

اور سب میں میں بھی تھا سو ملانا پڑا اسے

Friday, 3 September 2021

غم کی تشہیر کر رہا ہے کوئی

 غم کی تشہیر کر رہا ہے کوئی

زخم تعمیر کر رہا ہے کوئی

کر رہا ہے کوئی کسی کو یاد

آنکھ پُر نِیر کر رہا ہے کوئی

کسی رانجھے کے اُٹھ رہے ہیں ہاتھ

ہِیر در ہِیر کر رہا ہے کوئی

Wednesday, 1 September 2021

وہ مجھے معتبر نہ دیکھ سکا

 وہ مجھے معتبر نہ دیکھ سکا

اور پھر عمر بھر نہ دیکھ سکا

اس کو منزل تو دِکھ گئی فوراً

پر وہ دور سفر نہ دیکھ سکا

کیا بتاؤں ستم ظریف کا حال

وہ مجھے اک نظر نہ دیکھ سکا

Sunday, 4 July 2021

میری افسردگی سے لطف اٹھانے والے

 میری افسُردگی سے لُطف اٹھانے والے

کتنے ظالم ہیں یہ سب لوگ زمانے والے

لوگ ہنستے ہیں اُداسی میں تڑپتا ہوں جب

ایک تو درد ہے، اوپر سے ستانے والے

پیار اپنی جگہ، پر ایک شکایت ہے مجھے

تم نے آنے میں بہت دیر کی آنے والے

Sunday, 18 April 2021

وصل کا بیج بو نہیں پایا

 وصل کا بیج بو نہیں پایا

رات زندہ تھا، سو نہیں پایا

فانی دنیا کے اس مسافر نے

وہ بھی کھویا ہے جو نہیں پایا

میری آنکھوں میں خواب بستے ہیں

زندگی بھر میں رو نہیں پایا