وقت کا کیا ہے مرے یار، بدل جاتا ہے
آگ لگتی ہے تو بازار بدل جاتا ہے
ہم درختوں کے تو پھل بھی نہیں بدلے اب تک
ان پرندوں کا تو گھر بار بدل جاتا ہے
خواب ہر بار صدائیں دئیے رہ جاتے ہیں
اک ارادہ ہے کہ ہر بار بدل جاتا ہے
وقت کا کیا ہے مرے یار، بدل جاتا ہے
آگ لگتی ہے تو بازار بدل جاتا ہے
ہم درختوں کے تو پھل بھی نہیں بدلے اب تک
ان پرندوں کا تو گھر بار بدل جاتا ہے
خواب ہر بار صدائیں دئیے رہ جاتے ہیں
اک ارادہ ہے کہ ہر بار بدل جاتا ہے
لبوں پہ قہقہے، لیکِن گماں میں روتا ہے
نہ جانے مسخرہ کیسی زباں میں روتا ہے
خدا سے جا کے کہو مشکلات دور کرے
کہیں پہ کوئی مؤذن اذاں میں روتا ہے
جناب! آپ تو ایسے چلا رہے ہیں تِیر
کہ جیسے تِیر حصارِ کماں میں روتا ہے
حسن در حسن وہی ذات نظر آتی ہے
ایک تتلی مجھے دن رات نظر آتی ہے
چارہ سازو! مِرے اعصاب کی تدبیر کرو
مجھ کو خوابوں میں ملاقات نظر آتی ہے
خودغرض شخص ذرا اپنے گریبان میں جھانک
لوگ کہتے ہیں کہ اوقات نظر آتی ہے
ڈر کے بیٹھا ہوں سر نگوں، وحشت
مجھ کو بتلا میں کیا کروں، وحشت
ہجر کافی ہے دل لگی کے لیے
اب میں تیرا بھی کیا بنوں وحشت؟
چاہے جتنا سنوار لوں خود کو
آئینے میں مگر لگوں وحشت
درکار تھا قرار بلانا پڑا اسے
آواز دی تو لوٹ کے آنا پڑا اسے
میں کون ہوں کہاں سے ہوں اور کس کا پیار ہوں
بُھولا ہوا تھا، مجھ کو بتانا پڑا اسے
جاتے ہوئے سبھی سے ملایا تھا اس نے ہاتھ
اور سب میں میں بھی تھا سو ملانا پڑا اسے
غم کی تشہیر کر رہا ہے کوئی
زخم تعمیر کر رہا ہے کوئی
کر رہا ہے کوئی کسی کو یاد
آنکھ پُر نِیر کر رہا ہے کوئی
کسی رانجھے کے اُٹھ رہے ہیں ہاتھ
ہِیر در ہِیر کر رہا ہے کوئی
وہ مجھے معتبر نہ دیکھ سکا
اور پھر عمر بھر نہ دیکھ سکا
اس کو منزل تو دِکھ گئی فوراً
پر وہ دور سفر نہ دیکھ سکا
کیا بتاؤں ستم ظریف کا حال
وہ مجھے اک نظر نہ دیکھ سکا
میری افسُردگی سے لُطف اٹھانے والے
کتنے ظالم ہیں یہ سب لوگ زمانے والے
لوگ ہنستے ہیں اُداسی میں تڑپتا ہوں جب
ایک تو درد ہے، اوپر سے ستانے والے
پیار اپنی جگہ، پر ایک شکایت ہے مجھے
تم نے آنے میں بہت دیر کی آنے والے
وصل کا بیج بو نہیں پایا
رات زندہ تھا، سو نہیں پایا
فانی دنیا کے اس مسافر نے
وہ بھی کھویا ہے جو نہیں پایا
میری آنکھوں میں خواب بستے ہیں
زندگی بھر میں رو نہیں پایا