Sunday, 4 July 2021

میری افسردگی سے لطف اٹھانے والے

 میری افسُردگی سے لُطف اٹھانے والے

کتنے ظالم ہیں یہ سب لوگ زمانے والے

لوگ ہنستے ہیں اُداسی میں تڑپتا ہوں جب

ایک تو درد ہے، اوپر سے ستانے والے

پیار اپنی جگہ، پر ایک شکایت ہے مجھے

تم نے آنے میں بہت دیر کی آنے والے

میں کبھی پاس چلا جاتا تھا رونے کے لیے

اور کبھی ذہن میں آ جاتے رُلانے والے

اک طرف رنج بُلاتا ہے مسلسل مجھ کو

دوسری اور مجھے رنج بُلانے والے

مرکزِ کرب کا احمد جو چھِڑے ذکر کہیں

جانے کیوں تیرا بتاتے ہیں بتانے والے


احمد طارق

No comments:

Post a Comment