محبت زندگانی چاہتی ہے
فقیرن راجدھانی چاہتی ہے
تمہی ہم سے گریزاں ہو وگرنہ
وفا کب رائیگانی چاہتی ہے؟
مجھے تم حالِ دل مت لکھ کے بھیجو
سماعت کچھ زبانی چاہتی ہے
مجھے ہی کیا میرے کچے مکاں کو
ہر آفت ناگہانی چاہتی ہے
فسانے میں میرا کردار رکھو
کہانی ایک رانی چاہتی ہے
محبت دل کے کعبے کی مکیں ہے
مزاحف لا مکانی چاہتی ہے
یسریٰ طارق
No comments:
Post a Comment