کتاب زیست میں ایسا کوئی بھی باب نہیں
تمہارے عشق کا جس پر لکھا حساب نہیں
شراب خانے میں دو بوند بھی شراب نہیں
ہمارے واسطے اس سے بڑا عذاب نہیں
ہوئی یہ زندگی تاریک رات کے مانند
تو ماہتاب نہیں میں بھی آفتاب نہیں
کتاب زیست میں ایسا کوئی بھی باب نہیں
تمہارے عشق کا جس پر لکھا حساب نہیں
شراب خانے میں دو بوند بھی شراب نہیں
ہمارے واسطے اس سے بڑا عذاب نہیں
ہوئی یہ زندگی تاریک رات کے مانند
تو ماہتاب نہیں میں بھی آفتاب نہیں
یوں تو ہونے کو کیا نہیں ہوتا
آدمی بس خدا نہیں ہوتا
درد دل ٹوٹنے کا جان من
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
پینے پڑتے ہیں سینکڑوں آنسو
درد خود تو دوا نہیں ہوتا
وقت کے ساتھ ساتھ چلنا تھا
خود کو تھوڑا بہت بدلنا تھا
اس میں غلطی گھڑی کی تھوڑی ہے
وقت تھا، وقت پر نکلنا تھا
اس کی فطرت پہ طنز مت کیجئے
رنگ گرگٹ کو تو بدلنا تھا