Showing posts with label ساحل علیگ. Show all posts
Showing posts with label ساحل علیگ. Show all posts

Thursday, 5 June 2025

کتاب زیست میں ایسا کوئی بھی باب نہیں

کتاب زیست میں ایسا کوئی بھی باب نہیں

تمہارے عشق کا جس پر لکھا حساب نہیں

شراب خانے میں دو بوند بھی شراب نہیں

ہمارے واسطے اس سے بڑا عذاب نہیں

ہوئی یہ زندگی تاریک رات کے مانند

تو ماہتاب نہیں میں بھی آفتاب نہیں

Wednesday, 4 June 2025

درد خود تو دوا نہیں ہوتا

 یوں تو ہونے کو کیا نہیں ہوتا

آدمی بس خدا نہیں ہوتا

درد دل ٹوٹنے کا جان من

یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

پینے پڑتے ہیں سینکڑوں آنسو

درد خود تو دوا نہیں ہوتا

Wednesday, 14 July 2021

وقت کے ساتھ ساتھ چلنا تھا

وقت کے ساتھ ساتھ چلنا تھا

خود کو تھوڑا بہت بدلنا تھا

اس میں غلطی گھڑی کی تھوڑی ہے

وقت تھا، وقت پر نکلنا تھا

اس کی فطرت پہ طنز مت کیجئے

رنگ گرگٹ کو تو بدلنا تھا