Wednesday, 14 July 2021

وقت کے ساتھ ساتھ چلنا تھا

وقت کے ساتھ ساتھ چلنا تھا

خود کو تھوڑا بہت بدلنا تھا

اس میں غلطی گھڑی کی تھوڑی ہے

وقت تھا، وقت پر نکلنا تھا

اس کی فطرت پہ طنز مت کیجئے

رنگ گرگٹ کو تو بدلنا تھا

سب پھسلتے ہیں اس جوانی میں

کہنے والے؛تجھے سنبھلنا تھا

ترکِ الفت کی کیا ضرورت تھی

گر تمہیں ذائقہ بدلنا تھا


اے آر ساحل علیگ

No comments:

Post a Comment