وقت کے ساتھ ساتھ چلنا تھا
خود کو تھوڑا بہت بدلنا تھا
اس میں غلطی گھڑی کی تھوڑی ہے
وقت تھا، وقت پر نکلنا تھا
اس کی فطرت پہ طنز مت کیجئے
رنگ گرگٹ کو تو بدلنا تھا
سب پھسلتے ہیں اس جوانی میں
کہنے والے؛تجھے سنبھلنا تھا
ترکِ الفت کی کیا ضرورت تھی
گر تمہیں ذائقہ بدلنا تھا
اے آر ساحل علیگ
No comments:
Post a Comment