Wednesday, 14 July 2021

خاموشی خود اپنی صدا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

 خاموشی خود اپنی صدا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

سناٹا ہی گونج رہا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

میرا ماضی مجھ سے بچھڑ کر کیا جانے کس حال میں ہے

میری طرح وہ بھی تنہا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

صحرا صحرا کب تک میں ڈھونڈوں الفت کا اک عالم

عالم عالم اک صحرا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

اہل طوفاں سوچ رہے ہیں ساحل ڈوبا جاتا ہے

خود ان کا دل ڈوب رہا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

ان مدھ ماتی آنکھوں پر یہ جھوم کے آنا زلفوں کا

بادہ کشوں کو عام صلا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

یارو میرا کیا ہے کف قاتل کی رعنائی دیکھو

خون ہی کیوں ہو رنگِ حنا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

ساری محفل میں اک تم سے اس کو تغافل کیوں ہے ذکا

کوئی خاص انداز وفا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے


ذکا صدیقی

No comments:

Post a Comment