کوئی مہلک سی بیماری ہوئی ہے
محبت آنکھ سے جاری ہوئی ہے
تیری رقت کی شدت سے ہے ظاہر
یہ میرے نام پر طاری ہوئی ہے
سزا ہے یہ معاشی ہجرتوں کی
بہت مصروف بے کاری ہوئی ہے
کبھی قسمت کو بے چاری نہ کہنا
کہ یہ تقدیر کی ماری ہوئی ہے
زباں چلتی نہیں ہے اس طرح سے
یہ آری کاٹ سے عاری ہوئی ہے
یقیں خود اٹھ گیا ہے مجھ سے میرا
مِری اتنی طرفداری ہوئی ہے
مجھے جب بولنا آیا ہے اختر
تبھی لفظوں کی دلداری ہوئی ہے
جنید اختر
No comments:
Post a Comment