Wednesday, 14 July 2021

سورج کی آنکھ نہیں روتی دل جلتا ہے

سُورج کی آنکھ نہیں روتی


لمحہ لمحہ موم پگھلتا ہے

کھارا پانی کوئی نہیں پیتا

کتنے جگنو

سرد ہوا کے اک جھونکے سے

بُجھ جاتے ہیں

چلمن سے باہر جھانکنے والے آنسو کی

کیا قیمت ہے

سُورج کی آنکھ نہیں روتی

دل جلتا ہے


علی اصغر

No comments:

Post a Comment