کوشش بھی یہ خلافِ طبیعت کبھی نہ کی
آسان راستوں کی سیاحت کبھی نہ کی
ہم نے دلوں کو جیتا ہے حسنِ سلوک سے
تیغ و تبر کے بل پہ حکومت کبھی نہ کی
ہم پاسبان امن و اماں ہی رہے سدا
غارت گری کی ہم نے وکالت کبھی نہ
گزرے ہیں کتنی بار صنم خانوں سے مگر
اس کے سوا کسی کی عبادت کبھی نہ کی
جب بھی چلے ہیں جادۂ حق پر چلے ہیں ہم
ہم نے منافقوں کی اطاعت کبھی نہ کی
کی ہیں زمینِ دل پہ محبت کی کھیتیاں
فصلِ حسد کی ہم نے زراعت کبھی نہ کی
شمشاد شاد
No comments:
Post a Comment