میرے آسمان کے چاند کو خبر دو
عجیب الجھن سی رہا کرتی ہے ان دنوں مجھ کو
میرے آسمان کے چاند کو خبر دو
یوں ہی دیر تک رات رات بھر جاگتی ہوں
تارے گنتی ہوں یادیں جمع کرتی ہوں
اور صبح ہونے تک سب بھول جاتی ہوں
میرے آسمان کے چاند کو خبر دو
عجیب الجھن سی رہا کرتی ہے ان دنوں مجھ کو
میرے آسمان کے چاند کو خبر دو
یوں ہی دیر تک رات رات بھر جاگتی ہوں
تارے گنتی ہوں یادیں جمع کرتی ہوں
اور صبح ہونے تک سب بھول جاتی ہوں
کہانی بس اتنی سی تھی
کہانی تو میری کچھ تھی ہی نہیں
کہ میری یہ زندگی تو میری تھی ہی نہیں
یہ تو بس آتے جاتے لوگوں کی راہداری تھی
یا ایک بس اسٹاپ تھا
جہاں کچھ دیر کو لوگ آتے تھے
اب وہ کیا کر رہا ہو گا
اب، مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے
اور، وہ مجھ سے نفرت کر رہا ہو گا
میں خوش ہوں کتنی
وہ اپنے گھر میں اداس ہو گا
میرا ہاتھ کسی اور کے ہاتھ میں دیکھ کر
اکیسویں صدی کا عشق
مجھے اور تمہیں کوئی ڈر نہیں
نہ کوئی وعدہ وفا کرنا ہے
نہ کوئی امید چراغ جلانا ہے
ایک شادی تھی فرسودہ رسم زمانے کی
وہ مرحلہ بھی طے کر چکے ہم
ہم کو آگہی نہ دو
ہم جیسے جی رہے ہیں
ہم کو ویسے جینے دو
یہ جو آگہی کے دُکھ ہوتے ہیں
وہ رُوح کو زخمی کر دیتے ہیں
اور اب تک صرف
حاصلِ تمنا
چاند کی تمنا میں
دور تک گئی مگر لوٹ آئی
خوابوں کی دنیا حسین ہے
مگر مجھے عزیز اپنی زمین ہے
اس کے دکھ