Showing posts with label مریم کیانی. Show all posts
Showing posts with label مریم کیانی. Show all posts

Sunday, 27 February 2022

میرے آسمان کے چاند کو خبر دو

 میرے آسمان کے چاند کو خبر دو


عجیب الجھن سی رہا کرتی ہے ان دنوں مجھ کو

میرے آسمان کے چاند کو خبر دو

یوں ہی دیر تک رات رات بھر جاگتی ہوں

تارے گنتی ہوں یادیں جمع کرتی ہوں

اور صبح ہونے تک سب بھول جاتی ہوں

Tuesday, 11 January 2022

کہانی بس اتنی سی تھی کہ کہانی کچھ تھی ہی نہیں

 کہانی بس اتنی سی تھی


کہانی تو میری کچھ تھی ہی نہیں

کہ میری یہ زندگی تو میری تھی ہی نہیں

یہ تو بس آتے جاتے لوگوں کی راہداری تھی

یا ایک بس اسٹاپ تھا

جہاں کچھ دیر کو لوگ آتے تھے

Tuesday, 28 December 2021

اب وہ کیا کر رہا ہو گا

 اب وہ کیا کر رہا ہو گا


اب، مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے

اور، وہ مجھ سے نفرت کر رہا ہو گا

میں خوش ہوں کتنی

وہ اپنے گھر میں اداس ہو گا

میرا ہاتھ کسی اور کے ہاتھ میں دیکھ کر

Tuesday, 21 September 2021

اکیسویں صدی کا عشق

 اکیسویں صدی کا عشق


مجھے اور تمہیں کوئی ڈر نہیں

نہ کوئی وعدہ وفا کرنا ہے

نہ کوئی امید چراغ جلانا ہے

ایک شادی تھی فرسودہ رسم زمانے کی

وہ مرحلہ بھی طے کر چکے ہم

Saturday, 17 July 2021

ہم جیسے جی رہے ہیں ہم کو ویسے جینے دو

ہم کو آگہی نہ دو


ہم جیسے جی رہے ہیں

ہم کو ویسے جینے دو

یہ جو آگہی کے دُکھ ہوتے ہیں

وہ رُوح کو زخمی کر دیتے ہیں

اور اب تک صرف 

Tuesday, 15 December 2020

چاند کی تمنا میں دور تک گئی

 حاصلِ تمنا


چاند کی تمنا میں

دور تک گئی مگر لوٹ آئی

خوابوں کی دنیا حسین ہے

مگر مجھے عزیز اپنی زمین ہے

اس کے دکھ