Tuesday, 21 September 2021

اکیسویں صدی کا عشق

 اکیسویں صدی کا عشق


مجھے اور تمہیں کوئی ڈر نہیں

نہ کوئی وعدہ وفا کرنا ہے

نہ کوئی امید چراغ جلانا ہے

ایک شادی تھی فرسودہ رسم زمانے کی

وہ مرحلہ بھی طے کر چکے ہم

اپنی اپنی جگہ ہم کتنے مطمئن ہیں

اب ملنے بچھڑنے کا عذاب ہے کب

اب جستجو وصال کیسا

اب لذت لمس کی کسے تمنا

نہ زمانے کی فکر

نہ لوگوں کا خوف

ہم ان تمام جذبوں سے کتنے آگے نکل گئے ہیں نا

ہاتھوں کی پوروں میں سمٹ آئے ہیں

تم لمحہ لمحہ میرا انگ انگ چھوتے ہو

میں بھی اپنے سرہانے تمہارے لفظ پیتی ہوں

انگلی کے ایک اشارے پر دنیا کتنی سمٹ آئی ہے

ہم کو کتنا قریب لے آئی ہے

اور مجھے اور تمہیں کسی کا ڈر نہیں ہے

کیونکہ میں نے بھی 

اپنے موبائل کا پاس ورڈ کسی کو نہیں بتایا


مریم تسلیم کیانی

No comments:

Post a Comment