دنیا کے ہر بشر سے سدا دوستی ہوئی
دشمن سے بھی کبھی نہ مِری دشمنی ہوئی
قائل نہیں ہوں پیار میں توحید کا میاں
چہرہ حسین جو بھی مِلا دل لگی ہوئی
مثلِ نسیمِ صبح وہ گزرا تھا پاس سے
پھولوں کی طرح زیست ہے میری کِھلی ہوئی
دنیا کے ہر بشر سے سدا دوستی ہوئی
دشمن سے بھی کبھی نہ مِری دشمنی ہوئی
قائل نہیں ہوں پیار میں توحید کا میاں
چہرہ حسین جو بھی مِلا دل لگی ہوئی
مثلِ نسیمِ صبح وہ گزرا تھا پاس سے
پھولوں کی طرح زیست ہے میری کِھلی ہوئی
پھول کو باغباں ترستا ہے
حسن کو گلستاں ترستا ہے
ایسے ترسا ہوں زیست کو جیسے
بات کو بے زباں ترستا ہے
پانیوں میں ہے پھر بھی پانی کو
تشنہ لب یہ جہاں ترستا ہے
دیارِ عشق میں محشر بپا تھا
کسی کی آنکھ سے آنسو گِرا تھا
لگی تھی آگ سارے پانیوں میں
کلی نے قطرۂ شبنم چُھوا تھا
گِرا طوفاں کے آگے بے بسی سے
ضرورت سے شجر اونچا ہُوا تھا
سنگ کو موم بنانے کا ہنر جانتا ہوں
حدِ ادراک سے آگے کا سفر جانتا ہوں
یہ مِرے یار کی نظروں کی عطا ہے مجھ پر
پسِ دیوار جو ہوتی ہے نظر، جانتا ہوں
ہر کسی شعر پہ دیتا نہیں میں داد کبھی
دل سے نکلیں ہوئی باتوں کا اثر جانتا ہوں
جواں رکھے مجھے ہر پل وہ حسنِ یار ماشاء اﷲ
نشیلے نین جاناں کے، لب و رخسار ماشاء اﷲ
چمکتا ہے تِرے ماتھے کا جُھومر چاند کے جیسے
کلائی کے حسیں کنگن، گلے کا ہار ماشاء اﷲ
عبادت جان کر چہرہ تمہارا دیکھتا ہوں میں
ہیں رنگ و روپ مثلِ گُل، تِرا دیدار ماشاء اﷲ