Showing posts with label اشتیاق احمد یاد. Show all posts
Showing posts with label اشتیاق احمد یاد. Show all posts

Saturday, 4 December 2021

دنیا کے ہر بشر سے سدا دوستی ہوئی

 دنیا کے ہر بشر سے سدا دوستی ہوئی

دشمن سے بھی کبھی نہ مِری دشمنی ہوئی

قائل نہیں ہوں پیار میں توحید کا میاں

چہرہ حسین جو بھی مِلا دل لگی ہوئی

مثلِ نسیمِ صبح وہ گزرا تھا پاس سے

پھولوں کی طرح زیست ہے میری کِھلی ہوئی

Thursday, 2 December 2021

پھول کو باغباں ترستا ہے

 پھول کو باغباں ترستا ہے

حسن کو گلستاں ترستا ہے

ایسے ترسا ہوں زیست کو جیسے

بات کو بے زباں ترستا ہے

پانیوں میں ہے پھر بھی پانی کو

تشنہ لب یہ جہاں ترستا ہے

Friday, 26 November 2021

دیار عشق میں محشر بپا تھا

 دیارِ عشق میں محشر بپا تھا 

کسی کی آنکھ سے آنسو گِرا تھا 

لگی تھی آگ سارے پانیوں میں 

کلی نے قطرۂ شبنم چُھوا تھا 

گِرا طوفاں کے آگے بے بسی سے 

ضرورت سے شجر اونچا ہُوا تھا

Thursday, 25 November 2021

سنگ کو موم بنانے کا ہنر جانتا ہوں

 سنگ کو موم بنانے کا ہنر جانتا ہوں

حدِ ادراک سے آگے کا سفر جانتا ہوں

یہ مِرے یار کی نظروں کی عطا ہے مجھ پر

پسِ دیوار جو ہوتی ہے نظر، جانتا ہوں

ہر کسی شعر پہ دیتا نہیں میں داد کبھی

دل سے نکلیں ہوئی باتوں کا اثر جانتا ہوں

Monday, 15 February 2021

جواں رکھے مجھے ہر پل وہ حسن یار ماشا اﷲ

 جواں رکھے مجھے ہر پل وہ حسنِ یار ماشاء اﷲ

نشیلے نین جاناں کے، لب و رخسار ماشاء اﷲ

چمکتا ہے تِرے ماتھے کا جُھومر چاند کے جیسے

کلائی کے حسیں کنگن، گلے کا ہار ماشاء اﷲ

عبادت جان کر چہرہ تمہارا دیکھتا ہوں میں

ہیں رنگ و روپ مثلِ گُل، تِرا دیدار ماشاء اﷲ