پھول کو باغباں ترستا ہے
حسن کو گلستاں ترستا ہے
ایسے ترسا ہوں زیست کو جیسے
بات کو بے زباں ترستا ہے
پانیوں میں ہے پھر بھی پانی کو
تشنہ لب یہ جہاں ترستا ہے
خوب ترسے ہے دھوپ چھاؤں کو
دھوپ کو سائباں ترستا ہے
اک گھڑی کامیاب ہونے کو
زیست کا امتحاں ترستا ہے
خود کو اول میں یا کہ آخر میں
دیکھنے درمیاں ترستا ہے
اِک ذرا یاد مہربانی کو
ان دنوں مہرباں ترستا ہے
اشتیاق احمد یاد
No comments:
Post a Comment