سر کو کھجائیں کیا نہ ملے جو فراغ بھی
شیشہ پئیں کہ دیکھتے رقصِ ایاغ بھی
دل چل پڑا ہے اپنے ہی نقشِ قدم پہ یوں
چھوڑا ہے دشت، اور ملا سبز باغ بھی
آنکھوں نے دلفریب حسینہ سکَین کی
کتوں نے سونگھ سونگھ کے لینا سراغ بھی
سر کو کھجائیں کیا نہ ملے جو فراغ بھی
شیشہ پئیں کہ دیکھتے رقصِ ایاغ بھی
دل چل پڑا ہے اپنے ہی نقشِ قدم پہ یوں
چھوڑا ہے دشت، اور ملا سبز باغ بھی
آنکھوں نے دلفریب حسینہ سکَین کی
کتوں نے سونگھ سونگھ کے لینا سراغ بھی
خود سے سمٹ رہے ہیں یہ ٹوٹے ہوئے سے لوگ
اتنی کشش سکھائیں گے پارے تماش بیں
سائے نے مجھ پہ طنز کیا ڈھلتی شام میں
سورج بھی آسماں سے اتارے تماش بیں
ہم نے بھنور کی آنکھ میں ڈالی ہے آنکھ بھی
موجیں ہیں مضطرب تو کنارے تماش بیں
وہ مامتا ہے جو بٹ کر کبھی نہ بٹتی ہے
مجھے جو چوٹ لگے، دل پہ اپنے سہتی ہے
میں تیری کوکھ میں دھڑکن کے ساتھ دھڑکا ہوں
مجھے جو دھڑکا لگے، پہلے سے دھڑکتی ہے
مِرے وجود کی ضامن، مِری بقا کا سبب
مجھے خدا سے ملانے کی پہلی ہستی ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
درِ حبیب ﷺ پہ جا کر جو گڑگڑاتا ہے
ستارہ اس کے مقدر کا جگمگاتا ہے
نہ سن سکا تو کبھی ایک آیتِ قرآں
سماعتوں کو ترے گھنگھرو جو لبھاتا ہے
حمیت اور یہ غیرت کہاں سے لاش ہوئی
کہ کفر آج بھی لرزاں ہے تھرتھراتا ہے
پلڑا ہو جس کا ایک، ترازو کہاں گیا
تھا جس کے ہاتھ میں وہی سادھو کہاں گیا
تُو ہی طلسمِ زیست کا حاصل ہے میرے دوست
اس دشتِ بے کراں میں وہ آہو کہاں گیا
آنکھیں لگا رہی ہیں تماشے عجب عجب
منظر کشانِ شوق ارے تُو کہاں گیا
کہی کہ ان کہی ہر ایک بات سے گزرا
مِرا کلام بھی ہر طاق رات سے گزرا
میں اپنے آپ میں سمٹا تو پُر سکون ہوا
نہ پھر سے کوزہ گروں کے بھی ہاتھ سے گزرا
زمیں پہ بھول بُھلیّاں ہیں اور کچھ بھی نہیں
میں پھیلتی ہوئی ہر کائنات سے گزرا