Showing posts with label علیم اطہر. Show all posts
Showing posts with label علیم اطہر. Show all posts

Wednesday, 6 April 2022

سر کو کھجائیں کیا نہ ملے جو فراغ بھی

 سر کو کھجائیں کیا نہ ملے جو فراغ بھی

شیشہ پئیں کہ دیکھتے رقصِ ایاغ بھی

دل چل پڑا ہے اپنے ہی نقشِ قدم پہ یوں

چھوڑا ہے دشت، اور ملا سبز باغ بھی

آنکھوں نے دلفریب حسینہ سکَین کی

کتوں نے سونگھ سونگھ کے لینا سراغ بھی

Wednesday, 16 March 2022

خود سے سمٹ رہے ہیں یہ ٹوٹے ہوئے سے لوگ

 خود سے سمٹ رہے ہیں یہ ٹوٹے ہوئے سے لوگ

اتنی کشش سکھائیں گے پارے تماش بیں

سائے نے مجھ پہ طنز کیا ڈھلتی شام میں

سورج بھی آسماں سے اتارے تماش بیں

ہم نے بھنور کی آنکھ میں ڈالی ہے آنکھ بھی

موجیں ہیں مضطرب تو کنارے تماش بیں

Saturday, 19 February 2022

وہ مامتا ہے جو بٹ کر کبھی نہ بٹتی ہے

وہ مامتا ہے جو بٹ کر کبھی نہ بٹتی ہے

مجھے جو چوٹ لگے، دل پہ اپنے سہتی ہے

میں تیری کوکھ میں دھڑکن کے ساتھ دھڑکا ہوں

مجھے جو دھڑکا لگے، پہلے سے دھڑکتی ہے

مِرے وجود کی ضامن، مِری بقا کا سبب

مجھے خدا سے ملانے کی پہلی ہستی ہے

Saturday, 22 January 2022

درِ حبیب پہ جا کر جو گڑگڑاتا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


درِ حبیب ﷺ پہ جا کر جو گڑگڑاتا ہے

ستارہ اس کے مقدر کا جگمگاتا ہے

نہ سن سکا تو کبھی ایک آیتِ قرآں

سماعتوں کو ترے گھنگھرو جو لبھاتا ہے

حمیت اور یہ غیرت کہاں سے لاش ہوئی

کہ کفر آج بھی لرزاں ہے تھرتھراتا ہے

Friday, 21 January 2022

پلڑا ہو جس کا ایک ترازو کہاں گیا

 پلڑا ہو جس کا ایک، ترازو کہاں گیا

تھا جس کے ہاتھ میں وہی سادھو کہاں گیا

تُو ہی طلسمِ زیست کا حاصل ہے میرے دوست

اس دشتِ بے کراں میں وہ آہو کہاں گیا

آنکھیں لگا رہی ہیں تماشے عجب عجب

منظر کشانِ شوق ارے تُو کہاں گیا

Wednesday, 19 January 2022

کہی کہ ان کہی ہر ایک بات سے گزرا

 کہی کہ ان کہی ہر ایک بات سے گزرا

مِرا کلام بھی ہر طاق رات سے گزرا

میں اپنے آپ میں سمٹا تو پُر سکون ہوا

نہ پھر سے کوزہ گروں کے بھی ہاتھ سے گزرا

زمیں پہ بھول بُھلیّاں ہیں اور کچھ بھی نہیں

میں پھیلتی ہوئی ہر کائنات سے گزرا