Wednesday, 6 April 2022

سر کو کھجائیں کیا نہ ملے جو فراغ بھی

 سر کو کھجائیں کیا نہ ملے جو فراغ بھی

شیشہ پئیں کہ دیکھتے رقصِ ایاغ بھی

دل چل پڑا ہے اپنے ہی نقشِ قدم پہ یوں

چھوڑا ہے دشت، اور ملا سبز باغ بھی

آنکھوں نے دلفریب حسینہ سکَین کی

کتوں نے سونگھ سونگھ کے لینا سراغ بھی

حاسد، کمینہ، عیب جُو پہلے ذرا سا تھا

شہرت نے، شاعری نے، کیا بددماغ بھی

پہلے تھا داغ دل میں، گناہوں کا بار تھا

صد شکر بڑھ چلا ہے یہ ماتھے پہ داغ بھی

نوبت کبھی نہ آتی، میں جاؤں خدا کے گھر

سیلفی کے شوق میں ہی جلائے چراغ بھی


علیم اطہر

No comments:

Post a Comment