خواب تعبیر کے مارے تھے کنوارے نکلے
چھپ گیا وہ تو مِری آنکھوں میں تارے نکلے
اب کے سوچا تھا کہ آرام سے گزرے گی بہار
ابر چھایا تو نشیمن سے شرارے نکلے
ساقی و مطرب و مضراب ہیں حیرت میں شہید
رِند اس بزمِ طرب زار سے سارے نکلے
بعدِ صحرائے جُنوں خيز سرِ کوہ و دمن
جتنے چشموں کا چکھا آب تو کھارے نکلے
ہم نے گھنگھور اندھیروں میں سفر کاٹ دیا
شہر مہتاب میں پہنچے تو ستارے نکلے
ہم تھے مصروف بدلنے میں ہواؤں کا مزاج
دیکھتے دیکھتے دریا میں کنارے نکلے
خشک آنکھوں کو ذرا پیار سے دیکھا اس کی
ساز جو اشک نہ نکلے تھے وہ دھارے نکلے
ساز دہلوی
No comments:
Post a Comment