قوالی
ہمیں تو لُوٹ لیا مل کے حسن والوں نے
کالے کالے بالوں نے گورے گورے گالوں نے
ہمیں تو لوٹ لیا مل کے حسن والوں نے
کالے کالے بالوں نے گورے گورے گالوں نے
نظر میں شوخیاں اور بچپنا شرارت میں
ادائیں دیکھ کے ہم پھنس گئے محبت میں
قوالی
ہمیں تو لُوٹ لیا مل کے حسن والوں نے
کالے کالے بالوں نے گورے گورے گالوں نے
ہمیں تو لوٹ لیا مل کے حسن والوں نے
کالے کالے بالوں نے گورے گورے گالوں نے
نظر میں شوخیاں اور بچپنا شرارت میں
ادائیں دیکھ کے ہم پھنس گئے محبت میں
قوالی عارفانہ کلام
اللہ کے حضور میں سر کو جھکا کے دیکھ
ملتا ہے کیا نماز میں، سجدے میں جا کے دیکھ
وہ خوش نصیب ہے، جسے منظور ہے نماز
مومن کی پاک روح کا ایک نور ہے نماز
شیطان کی پہنچ سے بہت دور ہے نماز
دل کو خدا کی یاد کا مسکن بنا کے دیکھ
فلمی گیت
دل کی آواز بھی سن میرے فسانے پہ نہ جا
میری نظروں کی طرف دیکھ زمانے پہ نہ جا
دل کی آواز بھی سن
اک نظر دیکھ لے جینے کی اجازت دے دے
روٹھنے والے وہ پہلی سی محبت دے دے
فلمی گیت
زلف کو تیری گھٹاؤں کا پیام آیا ہے
حسن کو تیرے بہاروں کا سلام آیا ہے
زلف کو تیری گھٹاؤں کا پیام آیا ہے
اب کے کلیوں نے بہت یاد کیا ہے تجھ کو
بلکہ موسم نے بھی پیغام دیا ہے تجھ کو
فلمی قوالی
حسن والے حسن کا انجام دیکھ
ڈوبتے سورج کو وقتِ شام دیکھ
صبح کے سورج کا بھی انداز دیکھ
بھول جا انجام کو آغاز دیکھ
دل کی دھڑکن درد کا سامان ہوں
حسن کا اٹھتا ہوا طوفان ہوں
فلمی گیت
تیرا کسی پہ آئے دل تیرا کوئی دُکھائے دل
تُو بھی کلیجہ تھام کر مجھ سے کہے کہ ہائے دل
تیرا کسی پہ آئے دل تیرا کوئی دُکھائے دل
یہ میرا نہیں آپ کا خیال ہے
تیرا بھی دل خدا کرے میرے لیے ہو بے قرار
فلمی گیت
چندا رے چندا کچھ تو ہی بتا میرا افسانہ
بے تاب ہے کیوں دل دیوانہ
کچھ تُو ہی بتا میرا افسانہ
کیوں لوگ مجھے سمجھاتے ہیں
کیوں شعلوں کو بھڑکاتے ہیں
جلتی ہوں مگر معلوم نہیں
فلمی گیت
میں نے اک آشیاں بنایا تھا اب بھی شاید وہ جل رہا ہو گا
تنکے سب راکھ ہو چکے ہوں گے اک دھواں سا نکل رہا ہو گا
میں نے اک آشیاں بنایا تھا
مجھ کو شکوہ نہیں زمانے سے مجھ کو تقدیر نے مٹایا ہے
بجلیوں کا کوئی قصور نہیں میں نے خود آشیاں جلایا ہے
ہر تمنا ہر آرزو کا بدن سوز غم سے پگل رہا ہو گا
میں نے اک آشیاں بنایا تھا
فلمی گیت
وہ چاند سا چہرہ لیے چھت پر تیرا آنا
جلووں سے تیرے چاند کا بھی منہ کو چھپانا
وہ چاند سا چہرہ لیے
ملتے ہی نظر وہ تیری پلکوں کا جھپکنا
گستاخ نگاہوں پہ میری تیرا چمکنا
گھبرا کے ادب سے وہ میرا سر کو جھکانوں
فلمی گیت
وہ حسین درد دے دو جسے میں گلے لگا لوں
وہ نگاہ مجھ پہ ڈالو کہ میں زندگی بنا لوں
وہ حسین درد دے دو جسے میں گلے لگا لوں
تمہیں تم سے مانگتی ہوں ذرا اپنا ہاتھ دے دو
مجھے آج زندگی کی وہ سہاگ رات دے دو
جسے لے کے کچھ نہ مانگوں اور مانگ میں سجا لوں
فلمی گیت
میری زندگی ہے نغمہ میری زندگی ترانہ
میں صدائے زندگی ہوں مجھے ڈھونڈ لے زمانہ
میری زندگی ہے نغمہ میری زندگی ترانہ
میں کسی کو کیا بتاؤں مجھے یاد کچھ نہیں ہے
کہاں رہ گئی بچھڑ کر میری شاخیں آشیانہ
میری زندگی ہے نغمہ میری زندگی ترانہ
فلمی گیت
یہاں قدر کیا دل کی ہو گی
یہ دنیا ہے شیشہ گروں کی
محبت کا دل ٹھوکروں میں
ہے قیمت یہاں پتھروں کی
بڑی سادگی سے زمانہ
کہانی کا رخ موڑتا ہے
فلمی گیت
لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے
یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے
لے آئی پھر کہاں پر
مجبور کر رہی ہے پھر گردشِ زمانہ
ہم چھیڑ دیں وہیں سے گزرا ہوا فسانہ
لیکن کوئی بتا دے بھولے ہیں ہم کہاں سے