Showing posts with label شیون رضوی. Show all posts
Showing posts with label شیون رضوی. Show all posts

Saturday, 24 September 2022

ہمیں تو لوٹ لیا مل کے حسن والوں نے

 قوالی


ہمیں تو لُوٹ لیا مل کے حسن والوں نے

کالے کالے بالوں نے گورے گورے گالوں نے

ہمیں تو لوٹ لیا مل کے حسن والوں نے

کالے کالے بالوں نے گورے گورے گالوں نے


نظر میں شوخیاں اور بچپنا شرارت میں

ادائیں دیکھ کے ہم پھنس گئے محبت میں

Thursday, 22 September 2022

ملتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ

 قوالی عارفانہ کلام


اللہ کے حضور میں سر کو جھکا کے دیکھ

ملتا ہے کیا نماز میں، سجدے میں جا کے دیکھ


وہ خوش نصیب ہے، جسے منظور ہے نماز

مومن کی پاک روح کا ایک نور ہے نماز

شیطان کی پہنچ سے بہت دور ہے نماز

دل کو خدا کی یاد کا مسکن بنا کے دیکھ

Tuesday, 3 November 2020

دل کی آواز بھی سن میرے فسانے پہ نہ جا

 فلمی گیت


دل کی آواز بھی سن میرے فسانے پہ نہ جا

میری نظروں کی طرف دیکھ زمانے پہ نہ جا

دل کی آواز بھی سن


اک نظر دیکھ لے جینے کی اجازت دے دے

روٹھنے والے وہ پہلی سی محبت دے دے

Sunday, 1 November 2020

زلف کو تیری گھٹاؤں کا پیام آیا ہے

 فلمی گیت


زلف کو تیری گھٹاؤں کا پیام آیا ہے

حسن کو تیرے بہاروں کا سلام آیا ہے

زلف کو تیری گھٹاؤں کا پیام آیا ہے


اب کے کلیوں نے بہت یاد کیا ہے تجھ کو

بلکہ موسم نے بھی پیغام دیا ہے تجھ کو

Saturday, 31 October 2020

حسن والے حسن کا انجام دیکھ ڈوبتے سورج کو وقت شام دیکھ

 فلمی قوالی


حسن والے حسن کا انجام دیکھ 

ڈوبتے سورج کو وقتِ شام دیکھ

صبح کے سورج کا بھی انداز دیکھ

بھول جا انجام کو آغاز دیکھ


دل کی دھڑکن درد کا سامان ہوں

حسن کا اٹھتا ہوا طوفان ہوں

تیرا کسی پہ آئے دل تیرا کوئی دکھائے دل

 فلمی گیت


تیرا کسی پہ آئے دل تیرا کوئی دُکھائے دل

تُو بھی کلیجہ تھام کر مجھ سے کہے کہ ہائے دل

تیرا کسی پہ آئے دل تیرا کوئی دُکھائے دل

یہ میرا نہیں آپ کا خیال ہے


تیرا بھی دل خدا کرے میرے لیے ہو بے قرار

Friday, 30 October 2020

چندا رے چندا کچھ تو ہی بتا میرا افسانہ

 فلمی گیت


چندا رے چندا کچھ تو ہی بتا میرا افسانہ

بے تاب ہے کیوں دل دیوانہ

کچھ تُو ہی بتا میرا افسانہ


کیوں لوگ مجھے سمجھاتے ہیں

کیوں شعلوں کو بھڑکاتے ہیں

جلتی ہوں مگر معلوم نہیں

میں نے اک آشیاں بنایا تھا اب بھی شاید وہ جل رہا ہو گا

 فلمی گیت


میں نے اک آشیاں بنایا تھا اب بھی شاید وہ جل رہا ہو گا

تنکے سب راکھ ہو چکے ہوں گے اک دھواں سا نکل رہا ہو گا

میں نے اک آشیاں بنایا تھا


مجھ کو شکوہ نہیں زمانے سے مجھ کو تقدیر نے مٹایا ہے

بجلیوں کا کوئی قصور نہیں میں نے خود آشیاں جلایا ہے

ہر تمنا ہر آرزو کا بدن سوز غم سے پگل رہا ہو گا

میں نے اک آشیاں بنایا تھا

Thursday, 29 October 2020

وہ چاند سا چہرہ لیے چھت پر تیرا آنا

 فلمی گیت


وہ چاند سا چہرہ لیے چھت پر تیرا آنا

جلووں سے تیرے چاند کا بھی منہ کو چھپانا

وہ چاند سا چہرہ لیے


ملتے ہی نظر وہ تیری پلکوں کا جھپکنا

گستاخ نگاہوں پہ میری تیرا چمکنا

گھبرا کے ادب سے وہ میرا سر کو جھکانوں

وہ حسین درد دے دو جسے میں گلے لگا لوں

 فلمی گیت


وہ حسین درد دے دو جسے میں گلے لگا لوں

وہ نگاہ مجھ پہ ڈالو کہ میں زندگی بنا لوں

وہ حسین درد دے دو جسے میں گلے لگا لوں


تمہیں تم سے مانگتی ہوں ذرا اپنا ہاتھ دے دو

مجھے آج زندگی کی وہ سہاگ رات دے دو

جسے لے کے کچھ نہ مانگوں اور مانگ میں سجا لوں

Wednesday, 28 October 2020

میری زندگی ہے نغمہ میری زندگی ترانہ

 فلمی گیت


میری زندگی ہے نغمہ میری زندگی ترانہ 

میں صدائے زندگی ہوں مجھے ڈھونڈ لے زمانہ

میری زندگی ہے نغمہ میری زندگی ترانہ 


میں کسی کو کیا بتاؤں مجھے یاد کچھ نہیں ہے 

کہاں رہ گئی بچھڑ کر میری شاخیں آشیانہ

میری زندگی ہے نغمہ میری زندگی ترانہ 

یہاں قدر کیا دل کی ہو گی یہ دنیا ہے شیشہ گروں کی

 فلمی گیت


یہاں قدر کیا دل کی ہو گی

یہ دنیا ہے شیشہ گروں کی

محبت کا دل ٹھوکروں میں

ہے قیمت یہاں پتھروں کی


بڑی سادگی سے زمانہ

کہانی کا رخ موڑتا ہے

لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے

 فلمی گیت


لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے

یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے

لے آئی پھر کہاں پر


مجبور کر رہی ہے پھر گردشِ زمانہ

ہم چھیڑ دیں وہیں سے گزرا ہوا فسانہ

لیکن کوئی بتا دے بھولے ہیں ہم کہاں سے

Monday, 16 December 2013

اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا

 فلمی گیت

اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا
دل اس کی محبت میں گرفتار ہوا تھا

وہ رُوپ کہ جس رُوپ سے کلیاں بھی لجائیں
وہ زُلف کہ جس زُلف سے شرمائیں گھٹائیں
مے خانے نگاہوں کے، اداؤں کے ترانے
دے ڈالے مجھے اُس نے محبت کے خزانے